تحریک آزادی کشمیر کانقطہ آغاز نیلابٹ ۔۔۔ تحریر: اظہر اعجاز

نیلابٹ تاریخی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے اس لئے کہ یہ وہ چوٹی ہے جس نے پاکستان کے وجود میں آنے کے نو دن بعد اس مقام سے مسلح جدوجہد کے آغاز اعلان کیا۔یہاں مہاراجہ کی حکومت تھی اور مہاراجہ کو مسلمان اس لحاظ سے تسلیم نہیں کرتے تھے کیونکہ مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان کلمہ طیبہ ہے اور اسلام ہے جو کہ مہاراجہ اس کے مخالف سمت میں تھا۔کشمیریوں نے یہ آواز بھی بلند کی جو مجاہداول کی تقریر بھی تھی کہ مہاراجہ اس ریاست کو پاکستان کے ساتھ شامل کرنے کا اعلان کرے یا پھر خود مسلمان ہو جائے نہیں تو کشمیر چھوڑ دے۔یہ آواز نیلابٹ سے بلند ہوئی اور کشمیریوں کی آزادی

کا آغاز ہوا اور بے مثال جدوجہد کا عمل شروع ہوا۔اس اجلاس میں کئی لوگ تھے جس میں پیرخانہ سوہاوہ شریف کے خانوادے موجود تھے اور مجاہداول کی عمر تئیس سال تھی آپکی تقریر ایک منفرد انداز کی تھی ایک جذبات ابھارنے والی تھی اور اس اجلاس میں آپکی تقریر نے تمام لوگوں کو متاثر کیا اور یہ اعلان ہوا کے آج واپس گھر نہیں جاتے بلکہ یہاں سے ہی اس جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے اور پھر حلف بھی ہوا اور آپکو اس کاروان کا سپہ سالار بھی چنا گیا۔یاد رکھیں نیلابٹ ایسی جگہ تھی کہ جس کے گرد و نواح چڑالہ ارجہ کوہالہ میں ڈوگرہ مراکز موجود تھے لیکن جرآت اور بہادری کے ساتھ یہ سلسلہ شروع ہوا اور 23 اگست 1947 کو جہاد کا آغاز کر دیا گیا۔اس سے پہلے بہت سی سیاسی تحریکیں موجود تھیں لیکن یہ وہ تحریک تھی جو عملی طور پر مسلح جہاد میں تبدیل ہوئی اور ریاست میں پندرہ ماہ مسلسل جہاد کے بعد یہ علاقہ آزاد کشمیر کے نام سے معرزوجود میں آیا جس کی اپنی حکومت اور نظام ہے۔اسی جدوجہد سے گھبرا کر ہندوستان اقوام متحدہ میں پہنچ گیا اور وہاں فریاد کی کہ امن قائم کروایا جائے اور ہندوستان کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے رائے شماری کے نام پر لالی پاپ دے کر جنگ بندی کا اعلان کروا دیا گیا اور پھر اب تک کشمیریوں کو حق خودارادیت نہ مل سکا اور 27 اکتوبر کے واقع سے لے کر 35A تک کے اقدام تک اقوام متحدہ کے منہ پر زبردست تماچہ ہے بھارت کی طرف سے۔نیلابٹ سے جہاد آزادی کی جو چنگاری اٹھی تھی وہ رفتا رفتا شعلہ جوالہ بن گئی اور اس نے کشمیر میں ڈوگرہ مہاراجہ کے اقتدار کے سنگھاسن کو خاکستر کر دیا۔ڈوگرہ حکمران کشمیر سے باگ گئے اور بھارتی حکومت نے کشمیر میں

اپنی فوجیں اتار دیں اس طرح کشمیر کی آزادی کی جنگ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔پہلے یہ جنگ آزادی جابر حکمران کے خلاف تھی اور اس میں کشمیری مسلمانوں نے اس حد تک کامیابی حاصل کر لی تھی کہ 24 اکتوبر 1947 کو آزاد کشمیر کے نام سے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ہندوستان افواج کی کشمیر آمد کے بعد اب کشمیریوں کا مقابلہ بھارت جیسی منی سپر پاور سے تھا مگر اس کے باوجود کشمیریوں کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی اور وہ پامردی کے ساتھ سیاسی عسکری دونوں محاذوں پر لڑتے رہے۔23 اگست 1947 کو نیلابٹ کے تاریخی جلسہ کے جلوس میں مجاہداول جیسے

اولوالعزم، بیدار مغز، بہاد، شجاع اور اخلاص مندی سے لبریز اور اسلام کے ابدی و آفاقی اصولوں پر نہ صرف یقین کامل رکھنے بلکہ آنے والے وقت میں اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کے طور پر نافذ کرنے کا عزم مسلم رکھنے والے جوان رہنما کا مطلع سیاست و جہاد پر طلوع ہونے کا واقعہ پونچھ، میرپور، مظفرآباد اور شمالی علاقہ جات میں ڈوگرہ استبداد اور بھارتی فوجیوں کے خلاف مصروف جہاد لوگوں کے لئے زبردست حوصلے اور ہمت کا باعث بنا۔ مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان 1947 میں نیلابٹ کے مقام سے ڈوگرہ حکمرانوں اور بھارتیوں کے خلاف مسلح عوامی جدوجہد اور جہاد کا آغاز کر کے ایک

عسکری کمانڈر کے طور پر ابھرے تھے اور انہوں نے ابتدا اپنی سرگرمیوں کا مرکز ضلع پونچھ کو بنایا کیونکہ یہ علاقہ ریاست میں جغرافیائی محل وقوع اور فوجی صلاحیت کی وجہ سے مرکزی حثیت رکھتا تھا۔انہوں نے اس علاقے میں سابق فوجیوں کو منظم کرنے کے کام کے علاوہ جلسوں اور رابطوں کے ذریعے لوگوں کو متحد متحرک اور منظم کرنے کے لئے کامیاب کوششیں کیں۔1947 میں آزاد کسمیر میں رضاکارانہ فوج کی بنیاد انہوں نے رکھی اور ا949 کے سیز فائر تک مختلف محاذوں پر از خود کمان کرتے رہے۔مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان نے اپنا عسکری تجربہ اور مہارت جنگ آزادی کے لئے وقف کی جس کا اعتراف نہ صرف اندرون ملک بلکہ غیرملکی شخصیات نے بہی کیا ہے۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ لڈن البرٹ کے والد معروف مغربی مصنف جوزف کاربل نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”Danger in kashmir” صفحہ نمبر 22 میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ” ایک جواں سال جوشیلے نوجوان زمیندار محمد عبدالقیوم خان نے نیلہ بٹ کے مقام سے27 اگست 1947 کو تحریک آزادی کا آغاز کیا اور سردار عبدالقیوم خان نے پہلی آزاد کشمیر بٹالین کی کمان سنبھالی جو ان دنوں 6Ak برگییڈ کہلاتی ہے جسے جوزف کاربل نے ”قیوم بٹالین” کہا ہے مقام نیلہ بٹ تحریک آزادی کشمیر کا ”نقطہ آغاز ” اس حوالہ سے حاضر سروس وقت میجر جنرل اطہر عباس جی او سی مری نے 6 ستمبر 2018 کو پولیس سٹیڈیم مظفر آباد میں اپنے خطاب میں کہا کہ نیلہ بٹ سے ہی تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہوا جس کے ” بانی ”مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان ہیں۔ اسی طرح مشہور و

معروف برطانوی شہراء افاق اخبار ”the states man” میں میں 28 اگست1947 کو رچررڈ ساہمنڈ کا مضمون چھپا جس سے بیرونی دنیا پر یہ ظاہر ہوا کہ مسلح جدوجہد اور آزادی کشمیر کے ”بانی” سردار محمد عبدالقیوم خان تھے جس کی ابتدا نیلہ بٹ سے ہوئی تھی اس بات کا اعتراف پاکستان آرمی ہیڈ کوارٹر نے ”48-the kashmir campaign in 1947” کے نام سے مرتب شدہ کتاب کے صفحہ نمبر52 اور53 پر ریاست میں مسلح جدوجہد کا ”بانی ”سردار محمد عبدالقیوم خان کو تسلیم کرکے کیا ہے آزاد کشمیر رجمنٹ(مانسر چھاؤنی ) کی تیار کردہ کتاب Azad kaahmir Regiment

volume 1947-49 جو 1997 میں شاہع ہوئی کے ابتدائیہ میں لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ کرنل کمانڈنٹ آزاد کشمیر رجمنٹ ضیاء اللہ خان نے بھی مسلح جدوجہد کا معنی عبدالقیوم خان کو ہی قرار دیا تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے پٹیرنلیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ سردار ایف ایس لودھی نے اپنے ایک آرٹیکل میں مجاہداول سردار محمدعبدالقیوم خان صاحب کی مسلح جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہےA meeting was held at Neela Butt 50 kms from Bath,where the crowd led by a youngman Sardar Abdul Qayyum Khan swore onthe Holy book and a naked sword they would liberate Kashmir and join Pakistan. The struggle had begun. غازی ملت سردار محمد ابراہیم کی سربراہی میں حکومت آزاد کشمیر نے” آزاد کشمیر ”کے نام سے ایک سہ روزہ اخبار کا اجراء کیا جس نے 29 اکتوبر 1948 کو ا”ستقلال ”نمبر نکالا اس میں آزاد کشمیر کا مجاہد اول کے عنوان سے ایک مضمون جہاد کشمیر کے” بانی” کے طور پر سردار عبدالقیوم خان صاحب کا ذکر کیا گیا دنیا کے ہر مکتبہ فکر نے سردار عبدالقیوم خان صاحب23سالہ نوجوان کے” بانی ”مسلح جدوجہد جو کے نیلہ بٹ سے شروع کی گئی تھی اس کا برملا اعتراف کیا آزاد کشمیر کے منتخب صدر سردار مسعود عبداللہ کے دادا اور غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے حقیقی بھائی مولوی میر عالم خان نے اپنی کتاب” تاریخ آزادی” کشمیر میں سردار محمد عبدالقیوم حان کو برگییڈ کمانڈر غازی اور پونچھ سیکٹر کمانڈر کے حوالہ سے تحریر کا ایک باب موجود ہے جس میں نہ صرف آپ کی جنگی خدمات کو خراج تحسین پیش کی گء ہے بلکہ عبدالقیوم خان صاحب کو ”مجاہد اول ”کے نام سے مخاطب کیا اور اس بات کا اقرار بھی کیا ہے کہ آپ اپنی کارکردگیوں میں قابل صد و تحسین و تبریک ہیں مجاہد اول نے جنگ آزادی کشمیر کے دوران جن اعلی اسلامی اقدار کو قائم رکھا اور جس طرح اس جنگ کو اسلام کی ابدی اور دائمی سچائی پر مبنی اصولوں کے تابع رکھا اس سے نہ صرف ان کی شخصیت کا مہذب پن، شرافت، شائستگی اور انسان دوستی کا منفرد پہلو نمایاں ہوکر سامنے آیا بلکہ آج کی بے رحم جدید دنیا میں یہ مقولہ بہی انہوں نے اپنے طرز عمل سے غلط کر دکھایا کے ”محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے” جنگ کے دوران ڈوگرا افواج کے قیدیوں اور غیر مسلم بوڑھے مردوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ ان کا حسن سلوک اس کا بین ثبوت ہے – خطہ کشمیر کے لوگ اس اعتبار سے بھی خوش نصیب سمجھے جاتے ہیں کے انہیں ایک ایسے شخص کی رہنمائی حاصل رہی جس نے ہمیشہ ان کی تحریک حریت کی قیادت کی تھی اور بے پناہ مشکلات کے باوجود ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کا اسلامی تشخص قائم رکھنے بلکہ اس کو نمایاں کرنے کے لئے تاریخ ساز جدوجہد کی اور مصائب کے باوجود پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو کمزور نہیں ہونے دیامجاہداول اور ان کے تمام ساتھیوں جنہوں نے جہاد میں حصہ لیا جو غازی ہوئے یا شہید سب کو سلام عقیدت راجہ لطیف شہید سے سید خادم حسین شہید تک تمام ہمارے ہیروز کو کشمیری قوم کا سلام اس قومی دن کے موقع پر۔راقم خود یہ فخر محسوس کرتا ہے کہ جس کے دادا جو ممبر آف برٹش امپائر تھے برٹش فورس میں انہوں نے خود اس جہاد میں حصہ لیا اور مجاہداول کے ساتھ ساتھ اپنی عسکری مہارت کے جوہر دکھائے۔آج بھی مقبوضہ کشمیر میں اس تحریک کا تسلسل ہے اور ایک جہاد سی کیفیت ہے آج بھی لاکھوں کی تعداد میں کشمیری نوجوان شہید ہو رہے ہیں لیکن بھارت کے آگے سر تسلیم خم نہیں کر رہے اور قرارداد الحاق پاکستان اور مجاہداول کے دئیے ہوئے نعرے کشمیر بنے گا پاکستان کو اپنی شہادت کے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور پاکستان کے جھنڈے کو فخر سے اپنا کفن سمجھتے ہیں۔ اور آج قاہد ملت کی وہ بالغ نظری اور مجاہداول کی وہ دور اندیش سمت اور غازی ملت کی آبی گزر کی للکار کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کے دونوں ایوانوں میں سندھ بلوچستان پنچاب خیبرپختونخواہ میں بھی کشمیر کے جھنڈے لہرائے جارہے ہیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ بلند ہو رہا ہے۔موجودہ دہشت گرد اقدام کی بھرمزمت کرتے ہوئے یہ التجا ہے ریاستی حکومت سے کہ جو جدوجہد سردار عبدالقیوم خان سردار ابراہیم خان اور انکے ساتھیوں نے شروع کی تھی اور جو انکا خواب تھا کہ سرینگر دارلحکومت قائم کریں گے بیس کیمپ بنایا تھا اب وقت آگیا ہے کہ آزادی کے بیس کیمپ والے اور قاہد ملت چوہدری غلام عباس کے وارث نکل آئیں اور ایک بار پھر اقوام عالم کو بتائیں کے نیلابٹ کی تحریک کا وقت دوبارہ آن پہنچا ہے۔اللہ پاک قاہدین حریت کی مدد فرمائے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو آزادی نصیب کرے اور قاہد ملت مجاہداول غازی ملت اور انکے ساتھیوں سمیت سب کے درجات بلند کرے اور انکی جدوجہد کو پائی تکمیل تک پہنچائے۔آمین

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.